اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر اور نواز شریف کے درمیان ون آن ون گفتگو کے بعد، رجب طیب اردوغان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، پاکستان کی جانب سے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی مخالفت اور ترک حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کئے جانے کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بعض پاکستانی اخبارات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو فتح اللہ گولن کے لئے نرم گوشہ اپنائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اس موضوع پر زور دیا کہ فتح اللہ گولن اس بغاوت کے پیچھے ہیں۔ واضح رہے کہ ترک صدر نے اس سے قبل پاکستان کے صدر ممنون حسین سے بھی ملاقات کے دوران، دونوں ممالک کے تعلقات میں فروغ پر زور دیا تھا۔ ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعات کو سنجیدگی اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔ ایک اعلی سطحی وفد اس دورے میں ترک صدر اردوغان کا ساتھ دے رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ترکی کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل خلوصی آکار نے پاکستان کی فوج کے کمانڈر سے ملاقات کی اور فوجی اور دفاعی تعاون پر زور دیا۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ترکی کے موجودہ فوجی تعلقات، علاقے کی سیکورٹی اور دفاعی مسائل پر گفتکو کی گئی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد اور انقرہ نے گذشتہ چند سال کے دوران، متعدد فوجی، تجارتی اور معاشی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور ترکی کی باہمی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔
.......
/169